کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: عقیقہ کا بیان - یہ بیان کہ اگر دو بکریاں عقیقہ کے لیے ہوں تو وہ ایک جیسی ہونی چاہیے
حدیث نمبر: 5313
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خيثمٍ ، عَنْ أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيِّينَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فِي الْعَقِيقَةِ : " عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ " ، فَقُلْتُ لَهُ ، يَعْنِي عَطَاءً : مَا الْمُكَافِئَتَانِ ؟ قَالَ : مِثْلانِ ، ذُكْرَانُهُمَا أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ إِنَاثِهِمَا .
سیدہ ام بنو کرز رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عقیقہ کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہو گی۔
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے ان سے یعنی عطا سے دریافت کیا برابر کی ہونے سے مراد کیا ہے تو انہوں نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے: وہ دونوں ایک جیسی ہوں تاہم وہ بکرے ہوں، تو یہ میرے نزدیک بکریوں کے مقابلے میں زیادہ پسندیدہ ہوں گے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأطعمة / حدیث: 5313
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني استدراك على «طبعة باوزير»!! هذا الحديث سقط من طبعة باوزير وانظر ما قبله. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط صحيح
تخریج حدیث «0»