کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مہمان نوازی کا بیان - یہ خبر جو پہلے بیان کی گئی مجمل الفاظ کی وضاحت کرتی ہے
حدیث نمبر: 5306
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيُجِبْ ، فَإِنْ كَانَ صَائِمًا ، فَلْيُصَلِّ ، وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا ، فَلْيَطْعَمْ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ " ، يُرِيدُ بِهِ : فَلْيَدْعُ ؛ لأَنَّ الصَّلاةَ دُعَاءٌ ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِصَفِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ سورة التوبة آية 103 ْ أَرَادَ بِهِ : وَادْعُ لَهُمْ " ، فَأَمَّا الْمُجْمَلُ مِنَ الأَخْبَارِ ، فَهُوَ الْخَبَرُ الَّذِي يَرْوِيهِ صَحَابِيٌّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَفْظَةٍ مُسْتَقِلَّةٍ ، يَتَهَيَّأُ اسْتِعْمَالُهَا عَلَى عُمُومِ الْخِطَابِ ، وَالْمُفَسِّرُ : هُوَ رِوَايَةُ صَحَابِيٍّ آخَرَ ذَلِكَ الْخَبَرَ بِعَيْنِهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِزِيَادَةِ بَيَانٍ لَيْسَ فِي خَبَرِ ذَلِكَ الصَّحَابِيِّ الأَوَّلِ ، ذَلِكَ الْبَيَانُ حَتَّى لا يَتَهَيَّأَ اسْتِعْمَالُ تِلْكَ اللَّفْظَةِ الْمُجْمَلَةِ الَّتِي هِيَ مُسْتَقِلَّةٌ بِنَفْسِهَا ، إِلا بِاسْتِعْمَالِ هَذِهِ الزِّيَادَةِ الَّتِي هِيَ الْبَيَانُ لِتِلْكَ اللَّفْظَةِ الَّتِي لَيْسَتْ فِي خَبَرِ ذَلِكَ الصَّحَابِيِّ ، وَقَدْ ذَكَرْنَا كُلَّ خَبَرٍ مُجْمَلٍ وَمُفَسِّرٍ لَهُ فِي السُّنَنِ فِي كِتَابِ : فُصُولِ السُّنَنِ ، فَأَغْنَى ذَلِكَ عَنِ الاسْتِقْصَاءِ فِي هَذَا النَّوْعِ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ ؛ لأَنَّ فِيمَا أَوْمَأْنَا إِلَيْهِ مِنْهُ غُنْيَةً لِمَنْ وَفَّقَهُ اللَّهُ وَتَدَبَّرَهُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جب کسی شخص کو دعوت میں بلایا جائے تو اسے قبول کرنا چاہئے اور اگر وہ روزہ دار ہو تو دعائے رحمت کر دے اور اگر روزہ دار نہ ہو تو کھانا کھا لے۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” اگر وہ روزہ دار ہو تو دعائے رحمت کر دے۔ “ اس کے ذریعے مراد یہ ہے: وہ دعا کر دے کیونکہ الصلوٰۃ کا مطلب دعا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سے یہ فرمایا ہے۔ ” تم ان کے اموال میں سے صدقہ وصول کر کے انہیں پاک کر دو اور ان کا تزکیہ اس کے ذریعے کر دو اور ان کے لئے دعائے رحمت کرو بیشک تمہاری دعا ان کے لئے سکون کا باعث ہے۔ “ تو اس کے ذریعے مراد یہی ہے تم ان کے لئے دعا کر دو۔ جہاں تک مجمل روایت کا تعلق ہے تو یہ وہ روایت ہے جو ایک صحابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حوالے سے مستقل لفظ کے طور پر نقل کی ہے جس میں روایت کے الفاظ عمومی ہیں البتہ وضاحتی روایت وہ ہے جو دوسرے صحابی نے انہی الفاظ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اضافی بیان کے ہمراہ نقل کی ہے جو پہلے والے صحابی کی نقل کردہ روایت میں نہیں ہے یہاں تک کہ اس مجمل الفاظ والی روایت پر عمل کرنا اس وقت تک ممکن نہیں ہو گا جب تک ان اضافی الفاظ والی روایت پر عمل نہ کیا جائے جو ان الفاظ کی وضاحت کرتی ہے جو اس صحابی کی روایت میں نہیں ہے ہم نے سنن میں مجمل اور مفصل دونوں روایتیں کتاب ” فصول سنن “ میں نقل کر دی ہیں۔ اس لئے اس نوعیت کی تمام روایات کو اس کتاب میں جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم نے اس بات کی طرف اشارہ کر دیا ہے جو اس شخص کے لئے کافی ہو گی۔ جسے اللہ تعالیٰ توفیق عطا کرے اور جو غور و فکر کرے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” اگر وہ روزہ دار ہو تو دعائے رحمت کر دے۔ “ اس کے ذریعے مراد یہ ہے: وہ دعا کر دے کیونکہ الصلوٰۃ کا مطلب دعا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سے یہ فرمایا ہے۔ ” تم ان کے اموال میں سے صدقہ وصول کر کے انہیں پاک کر دو اور ان کا تزکیہ اس کے ذریعے کر دو اور ان کے لئے دعائے رحمت کرو بیشک تمہاری دعا ان کے لئے سکون کا باعث ہے۔ “ تو اس کے ذریعے مراد یہی ہے تم ان کے لئے دعا کر دو۔ جہاں تک مجمل روایت کا تعلق ہے تو یہ وہ روایت ہے جو ایک صحابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حوالے سے مستقل لفظ کے طور پر نقل کی ہے جس میں روایت کے الفاظ عمومی ہیں البتہ وضاحتی روایت وہ ہے جو دوسرے صحابی نے انہی الفاظ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اضافی بیان کے ہمراہ نقل کی ہے جو پہلے والے صحابی کی نقل کردہ روایت میں نہیں ہے یہاں تک کہ اس مجمل الفاظ والی روایت پر عمل کرنا اس وقت تک ممکن نہیں ہو گا جب تک ان اضافی الفاظ والی روایت پر عمل نہ کیا جائے جو ان الفاظ کی وضاحت کرتی ہے جو اس صحابی کی روایت میں نہیں ہے ہم نے سنن میں مجمل اور مفصل دونوں روایتیں کتاب ” فصول سنن “ میں نقل کر دی ہیں۔ اس لئے اس نوعیت کی تمام روایات کو اس کتاب میں جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم نے اس بات کی طرف اشارہ کر دیا ہے جو اس شخص کے لئے کافی ہو گی۔ جسے اللہ تعالیٰ توفیق عطا کرے اور جو غور و فکر کرے۔