کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مہمان نوازی کا بیان - یہ بیان کہ دعوت کا جواب دینا فرض ہے، مستحب نہیں
حدیث نمبر: 5304
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ ، يُدْعَى إِلَيْهَا الأَغْنِيَاءُ ، وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ ، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَالَ لَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا قَصَّرْتُ بِهِ ، لأَنَّ أَصْحَابَ الزُّهْرِيِّ كُلَّهُمْ كَذَا قَالُوا مَوْقُوفًا ، وَالْمُسْنَدُ هُوَ آخِرُ الْحَدِيثِ : وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب سے برا کھانا ولیمے کا ہوتا ہے جس میں خوشحال لوگوں کو بلا لیا جاتا ہے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور جو شخص دعوت قبول نہیں کرتا وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن قتیبہ نے ہمیں یہ بات بیان کی کہ یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ میں نے اس کو مختصر طور پر ذکر کر دیا ہے کیونکہ زہری کے تمام شاگردوں نے اس روایت کو اسی طرح
موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ مسند روایت دوسری ہے۔ ”جو شخص دعوت قبول نہیں کرتا۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن قتیبہ نے ہمیں یہ بات بیان کی کہ یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ میں نے اس کو مختصر طور پر ذکر کر دیا ہے کیونکہ زہری کے تمام شاگردوں نے اس روایت کو اسی طرح
موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ مسند روایت دوسری ہے۔ ”جو شخص دعوت قبول نہیں کرتا۔ “