کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مہمان نوازی کا بیان - یہ خبر مدحض کہ کسی نے کہا کہ یہ خبر یزید بن خمیر نے اکیلا روایت کی
حدیث نمبر: 5299
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو ، وَسَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ : قَالَ أَبِي لأُمِّي لَوْ صَنَعْتِ طَعَامًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَنَعَتْ ثَرِيدَةً ، وَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا يُقَلِّلُهَا ، فَانْطَلَقَ أَبِي ، فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى ذِرْوَتِهَا ، ثُمَّ قَالَ : " خُذُوا بِاسْمِ اللَّهِ " ، فَأَخَذُوا مِنْ نَوَاحِيهَا ، فَلَمَّا طَعِمُوا ، دَعَا لَهُمْ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ ، وَارْحَمْهُمْ ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي رِزْقِهِمْ " .
سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد نے میری والدہ سے کہا: اگر تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار کرو (تو یہ مناسب ہو گا) اس خاتون نے ثرید تیار کیا۔ راوی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے بتایا: وہ تھوڑا سا تھا۔ میرے والد گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر لائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک برتن کے اوپر رکھا پھر آپ نے فرمایا: اللہ کا نام لے کر اسے حاصل کرو لوگوں نے اطراف سے اسے حاصل کرنا شروع کیا جب ان لوگوں نے کھانا کھا لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے اللہ! ان کی مغفرت کر دے ان پر رحم کر اور ان کے رزق میں برکت عطا کر۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأطعمة / حدیث: 5299
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5275»