کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مہمان نوازی کا بیان - یہ کہ مہمان کس طرح اس کے کھانے کے لیے دعا کرے
حدیث نمبر: 5297
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي ، فَنَزَلَ عَلَيْهِ ، فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ ، وَحَيْسٍ ، وَسَوِيقٍ ، وَتَمْرٍ ، ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ ، فَنَاوَلَ مَنْ عَنْ يَمِينِهِ ، قَالَ : " وَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ ، وَيَضَعُ النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوسْطَى ، ثُمَّ يَرْمِي بِهِ ، ثُمَّ دَعَا لَهُمْ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ ، وَاغْفِرْ لَهُمْ ، وَارْحَمْهُمْ " .
سیدنا عبداللہ بن بسر سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے ہمراہ تشریف لائے۔ آپ نے وہاں قیام کیا۔ آپ کی خدمت میں کھانا، حیس، ستو اور کھجور پیش کئے گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشروب پیش کیا گیا تو آپ نے اپنے دائیں طرف والے شخص کی طرف بڑھا دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کھاتے تھے اور گٹھلی کو اپنی شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی کے درمیان رکھ دیتے تھے پھر آپ اسے پھینک دیتے تھے پھر آپ نے ان لوگوں کے لئے دعائے رحمت کی اور یہ دعا کی۔ ” اے اللہ! جو رزق، تو نے انہیں عطا کیا ہے اس میں ان کے لئے برکت رکھ دے ان کی مغفرت کر اور ان پر رحم کر دے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأطعمة / حدیث: 5297
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «آداب الزفاف» (ص 166)، «صحيح الترغيب» (911): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5273»