کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مہمان نوازی کا بیان - یہ اجازت کہ متقی اور فاضل شخص کم تر کے گھر میں کھا سکتا ہے
حدیث نمبر: 5295
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا ، وَقَالَ : إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي ، وَتُصَلِّيَ فِيهِ ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِذَا فِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ تِلْكَ الْفُحُولِ ، " فَأَمَرَ بِجَانِبٍ مِنْهُ ، فَكُنِسَ ، ثُمَّ رُشَّ ، فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے ایک چچا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار کر لیا۔ انہوں نے گزارش کی کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر میں کھانا کھائیں اور وہاں نماز ادا کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں آئے گھر میں ایک نر جانور تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے ایک طرف جھاڑو دی گئی پھر وہاں پانی چھڑکا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز ادا کی۔ ہم نے بھی آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأطعمة / حدیث: 5295
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (664). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5271»