کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مہمان نوازی کا بیان - یہ مستحب کہ مہمانوں کو اپنے بچوں پر ترجیح دے اگر یہ نقصان نہ پہنچائے
حدیث نمبر: 5286
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدٍ الْحَمِيدِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي مَجْهُودٌ ، فَأَرْسَلَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ، فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا ، مَا عِنْدِي إِلا مَاءٌ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُخْرَى ، فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ ، حَتَّى قُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " مَنْ يُضِيفُ هَذَا اللَّيْلَةَ ، رَحِمَهُ اللَّهُ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ ، فَقَالَ لامْرَأَتِهِ : هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ قَالَتْ : لا ، إِلا قُوتُ صِبْيَانِي ، قَالَ : فَعَلِّلِيهِمْ بِشَيْءٍ ، فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا ، فَأَضِيئِي السِّرَاجَ ، وَأَرِيهِ أَنَّا نَأْكُلُ ، فَإِذَا أَهْوَى لِيَأْكُلَ قَوْمِي إِلَى السِّرَاجِ حَتَّى تُطْفِئِيهِ ، قَالَ : فَقَعَدُوا وَأَكَلَ الضَّيْفُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَقَدْ عَجِبَ اللَّهُ مِنْ صَنِيعِكُمَا اللَّيْلَةَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: میں ضرورت مند ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ محترمہ کی طرف پیغام بھجوایا تو اس خاتون نے عرض کی۔ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میرے پاس صرف پانی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری زوجہ محترمہ کی طرف پیغام بھجوایا۔ انہوں نے بھی یہ جواب دیا یہاں تک کہ تمام ازواج نے اسی طرح کا جواب دیا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا آج رات کون اسے مہمان بنائے گا اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے تو ایک انصاری کھڑا ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میں بناؤں گا وہ اسے ساتھ لے کر اپنے گھر چلا گیا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا: کیا تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے۔ اس نے جواب دیا: جی نہیں صرف بچوں کی خوراک ہے۔ اس انصاری نے کہا: تم انہیں کسی چیز کے ذریعے بہلا دینا جب ہمارا مہمان اندر آئے، تو تم چراغ روشن کرنا اور یوں ظاہر کرنا جیسے ہم کھانا کھانے لگے ہیں جب وہ کھانے کے لئے ہاتھ بڑھائے تو تم چراغ کی طرف جا کر اسے بجھا دینا۔ راوی بیان کرتے ہیں تو وہ سب لوگ بیٹھ گئے اور کھانا صرف مہمان نے کھایا۔ اگلے دن صبح وہ انصاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کو گزشتہ رات تم دونوں (میاں بیوی) کا کیا ہوا طرزعمل بہت پسند آیا ہے۔