کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ بیان کہ عرب اسے سمندر سے حاصل شدہ مچھلی کہتے تھے، چاہے شکل مچھلی کی طرح نہ ہو
حدیث نمبر: 5262
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ ، وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، وَهُمْ ثَلاثُ مِئَةٍ ، وَأَنَا فِيهِمْ ، قَالَ : فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ ، فَنِيَ الزَّادُ ، فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ ذَلِكَ الْجَيْشِ ، فَجُمِعَ كُلُّهُ ، فَكَانَ مِزْوَدَ تَمْرٍ ، فَكَانَ يَقُوتُنَا كُلَّ يَوْمٍ قَلِيلاً قَلِيلاً ، حَتَّى فَنِيَ وَلَمْ يُصِبْنَا إِلا تَمْرَةٌ تَمْرَةٌ ، فَقُلْتُ : وَمَا تُغْنِي تَمْرَةٌ ؟ قَالَ : لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حَيْثُ فَنِيَتْ ، قَالَ : ثُمَّ انْتَهَى إِلَى الْبَحْرِ ، فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ ، فَأَكَلَ مِنْهُ ذَلِكَ الْجَيْشُ إِحْدَى عَشْرَةَ لَيْلَةً ، ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلْعَيْنِ مِنْ أَضْلاعِهِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ ، فَرُحِّلَتْ ، ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهُمَا وَلَمْ تُصِبْهُمَا .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساحل کی سمت ایک مہم روانہ کی۔ آپ نے سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر کیا۔ ہم تین سو افراد تھے۔ میں بھی ان میں شامل تھا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ روانہ ہوئے راستے میں ہمارا زاد سفر ختم ہو گیا، تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس لشکر کے تمام زاد راہ کے بارے میں حکم دیا ان سب کو جمع کیا گیا تو وہ ایک کھجوروں کا تھیلا بنا تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اس میں سے روزانہ تھوڑی تھوڑی سی کھجوریں ہمیں دیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ بھی ختم ہو گئیں تو ہمیں ایک کھجور ملا کرتی تھی۔
(راوی کہتے ہیں:) ایک کھجور سے۔ آپ کا کیا بنتا تھا۔ انہوں نے فرمایا: جب وہ بھی ختم ہو گئی تو پھر ہمیں اس کی غیر موجودگی محسوس ہوئی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر ہم لوگ سمندر تک پہنچ گئے تو وہاں چھوٹے ٹیلے کی طرح ایک مچھلی تھی اس لشکر نے گیارہ دن تک اس کا گوشت کھایا، پھر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت اس کی دو پسلیوں کو کھڑا کیا گیا پھر ایک اونٹ تیار کیا گیا تو وہ اونٹ ان پسلیوں کے نیچے سے گزر گیا۔ اس نے انہیں چھوا نہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأطعمة / حدیث: 5262
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5238»