کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس چیز کو کھایا جو اُس لشکر کے لوگوں نے سمندر سے حاصل کی جو عنبر لے کر گئے تھے
حدیث نمبر: 5260
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ يَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ ، وَزَوَّدَنَا جِرَابَ تَمْرٍ لَمْ يَجِدْ لَنَا غَيْرَهُ ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُطْعِمُنَا تَمْرَةً تَمْرَةً ، قُلْتُ : فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِهَا ؟ قَالَ : نَمُصُّهَا كَمَا يَمُصُّ الصَّبِيُّ ، ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ ، فَيَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ ، قَالَ : وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِيِّنَا الْخَبَطَ ، ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ ، فَنَأْكُلُهُ ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا ، فَرُفِعَ لَنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ ، فَأَتَيْنَاهُ ، فَإِذَا هُوَ دَابَّةٌ تُدْعَى الْعَنْبَرَ ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : مَيْتَةٌ ، ثُمَّ قَالَ : لا ، نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَقَدِ اضْطُرِرْتُمْ فَكُلُوا ، قَالَ : فَأَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا ، وَنَحْنُ ثَلاثُ مِئَةٍ ، حَتَّى سَمِنَّا ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقْبِ عَيْنَيْهِ بِالْقِلالِ ، وَنَقْطَعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كَالثَّوْرِ أَوْ كَقَدْرِ الثَّوْرِ ، وَلَقَدْ أَخَذَ مِنَّا أَبُو عُبَيْدَةَ ثَلاثَةَ عَشَرَ رَجُلاً ، فَأَقْعَدَهُمْ فِي وَقْبِ عَيْنِهِ ، وَأَخَذَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاعِهِ ، فَأَقَامَهَا ، ثُمَّ أَرْحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ مِنَّا ، فَمَرَّ تَحْتَهَا ، قَالَ : وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَشَائِقَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ، أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ ، فَهَلْ مِنْ لَحْمِهِ مَعَكُمْ شَيْءٌ تُطْعِمُونَا ؟ " فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ مِنْهُ ، فَأَكَلَهُ .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ کیا۔ آپ نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر کیا۔ ہمارا ارادہ قریش کے قافلے کو روکنے کا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زاد راہ کے طور پر کھجوروں کا ایک تھیلا ہمیں دے دیا۔ ہمیں اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ملی۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اس میں سے ایک ایک کھجور ہمیں کھانے کے لئے دیا کرتے تھے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے دریافت کیا آپ لوگ اس کا کیا، کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہم اسے یوں چوستے تھے جس طرح کوئی بچہ چوستا ہے پھر اس کے بعد ہم پانی پی لیا کرتے تھے تو وہ ہمارے لئے پورے دن کے لئے کافی ہوتی تھی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ اپنے عصا کے ذریعے پتے اتارا کرتے تھے۔ انہیں پانی میں بھگویا کرتے تھے اور پھر انہیں کھا لیا کرتے تھے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ چلتے رہے یہاں تک کہ ساحل سمندر پر ہمارے سامنے بڑی چٹان جیسی کوئی چیز آ گئی ہم اس کے پاس آئے تو وہ ایک جانور تھا جسے عنبر کہا: جاتا تھا سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مردار ہے پھر انہوں نے فرمایا: جی نہیں۔ ہم اللہ کے رسول کے بھیجے ہوئے لوگ ہیں۔ اور اللہ کی راہ میں ہیں تم لوگ اضطراری حالت میں ہو، تو تم لوگ اسے کھا لو۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم ایک ماہ وہاں مقیم رہے۔ ہم تین سو افراد تھے یہاں تک کہ ہم (اسے کھا کر) موٹے تازے ہو گئے۔ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے ہم نے اس کی آنکھوں سے چربی کے کئی مٹکے نکالے تھے اور ہم نے اس سے خشک گوشت کاٹ لیا۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ہم میں سے تیرہ آدمیوں کو لیا تو وہ اس کی آنکھ کے سوراخ میں بیٹھ گئے، پھر سیدنا ابوعبیدہ نے اس کی ایک پسلی کو لے کر کھڑا کیا اور سب سے اونچے اونٹ پر آدمی کو سوار کیا تو وہ اس کے نیچے سے گزر گیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر ہم نے اس کے گوشت کو زاد راہ کے طور پر ساتھ رکھ لیا جب ہم مدینہ منورہ آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے آپ کے سامنے اس بات کا ذکر کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ وہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے نکالا تھا کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کوئی چیز ہے جو تم ہمیں بھی کھلاؤ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کا گوشت بھجوایا تو آپ نے اسے کھا لیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأطعمة / حدیث: 5260
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5236»