کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جن چیزوں کا کھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں، کا بیان - یہ بیان کہ سمندر سے مردہ یا شکار شدہ جانور جو صرف سمندر میں زندہ رہتے ہیں، مردہ ہونے کے باوجود حلال ہیں اور ان کی شکل مچھلی کی شکل سے مختلف ہو سکتی ہے
حدیث نمبر: 5258
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ ابْنِ الأَزْرَقِ ، أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ ، وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ ، عَطِشْنَا ، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم سمندری سفر کرتے ہیں۔ ہم اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی لے جاتے ہیں۔ اگر ہم اس کے ذریعے وضو کریں، تو خود پیاسے رہ جائیں کیا ہم سمندر کے پانی کے ذریعے وضو کر لیا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
حدیث نمبر: 5259
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلاثِ مِئَةِ رَاكِبٍ ، وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، نَرْصُدُ عِيرًا لِقُرَيْشٍ ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ ، حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ ، قَالَ : فَسُمِّيَ ذَلِكَ الْجَيْشُ : جَيْشَ الْخَبَطِ ، ثُمَّ أَلْقَى الْبَحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا : الْعَنْبَرُ ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ حَتَّى ثَابَتْ أَجْسَامُنَا ، وَادَّهَنَّا بِوَدَكِهِ ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاعِهِ ، وَنَظَرَ إِلَى أَطْوَلِ جَمَلٍ فِي الْجَيْشِ وَأَطْوَلِ رَجُلٍ ، فَحَمَلَهُ عَلَيْهِ ، فَمَرَّ تَحْتَهُ " . قَالَ : قَالَ : سُفْيَانُ : قَالَ أَبُو الزُّبَيْرٍ ، عَنْ جَابِرٍ : أَعْطَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِرَابًا فِيهِ تَمْرٌ ، فَلَمَّا نَفِدَ ، وَجَدْنَا فَقْدَهُ ، فَجَعَلَ يَجِيءُ الرَّجُلُ بِالشَّيْءِ ، قَالَ : وَأَخْرَجْنَا مِنْ عَيْنَيْهِ كَذَا وَكَذَا حُبًّا مِنْ وَدَكٍ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَنَا : " هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ " .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تین سو سواروں کو (ایک مہم پر) روانہ کیا ہمارے امیر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے ہم قریش کے قافلے کی گھات میں تھے ہم نے پندرہ دن تک ساحل پر قیام کیا۔ ہمیں شدید بھوک لاحق ہو گئی یہاں تک کہ ہم پتے کھانے لگے۔ اسی وجہ سے اس لشکر کا نام پتوں والا لشکر رکھا گیا تھا، پھر سمندر نے ایک بڑے سے جانور کو باہر پھینک دیا جس کا نام عنبر تھا۔ ہم نے پندرہ دن تک اس کا گوشت کھایا یہاں تک کہ ہمارے جسم مضبوط ہو گئے۔ ہم نے اس کی چربی کو تیل کے طور پر استعمال کیا پھر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی کو لیا۔ انہوں نے لشکر میں موجود سب سے اونچے اونٹ اور سب سے لمبے آدمی کا انتخاب کیا۔ اسے اس اونٹ پر سوار کیا تو وہ آدمی اس پسلی کے نتیجے سے گزر گیا۔ ایک اور سند کے ساتھ یہ منقول ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک تھیلا دیا تھا۔ جس میں کھجوریں موجود تھیں جب وہ ختم ہو گئی تو ہمیں ان کی غیر موجودگی محسوس ہوئی پھر کوئی آدمی کوئی چیز لے آیا کرتا تھا۔ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ہم نے اس (سمندری جانور) کی آنکھوں سے اتنی اتنی چربی نکالی جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ہم سے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس اس کا کچھ (گوشت) ہے۔