کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: کھانے کے آداب کا بیان - یہ حکم کہ آدمی کھانے سے قبل انگلیاں چاٹے بغیر رومال سے صاف کرنے کے خلاف
حدیث نمبر: 5253
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْجَوَالِيقِيُّ بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا طَعِمَ أَحَدُكُمْ ، فَسَقَطَتْ لُقْمَتُهُ مِنْ يَدِهِ ، فَلْيُمِطْ مَا رَابَهُ مِنْهَا ، وَلْيَطْعَمْهَا ، وَلا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ، وَلا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ يَدَهُ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ يُبَارَكُ لَهُ ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَرْصُدُ النَّاسَ أَوِ الإِنْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ ، حَتَّى عِنْدَ مَطْعَمِهِ أَوْ طَعَامِهِ ، وَلا يَرْفَعُ الصَّحْفَةَ حَتَّى يَلْعَقَهَا ، أَوْ يُلْعِقَهَا ، فَإِنَّ فِي آخِرِ الطَّعَامِ الْبَرَكَةَ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ ” جب کوئی شخص کھانا کھا رہا ہو اور اس کا لقمہ اس کے ہاتھ سے گر جائے تو اس پر جو چیز لگی ہوئی ہو اسے صاف کر کے آدمی کو اسے کھا لینا چاہئے اور اس لقمے کو شیطان کے لئے نہیں چھوڑنا چاہئے اور آدمی کو اپنے ہاتھ رومال سے اس وقت تک نہیں پونچھنے چاہیئے جب تک وہ اپنے ہاتھ کو چاٹ نہیں لیتا کیونکہ آدمی یہ بات نہیں جانتا کہ اس کے کھانے کے کون سے حصے میں اس کے لئے برکت رکھی گئی ہے اور شیطان انسان کی گھات میں رہتا ہے۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) ہر چیز کے حوالے سے رہتا ہے یہاں تک کہ کھانے کے حوالے سے بھی رہتا ہے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) آدمی کو پیالہ اس وقت تک نہیں اٹھانا چاہئے جب تک وہ اسے چاٹ نہیں لیتا یا کسی دوسرے کو چاٹنے کے لئے نہیں دے دیتا کیونکہ کھانے کے آخری حصے میں برکت ہوتی ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأطعمة / حدیث: 5253
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (1404): م دون جملة الرصد. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5229»