کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: کھانے کے آداب کا بیان - یہ بیان کہ مسلمانوں کو کس طرح کھانا چاہئے تاکہ دو جہانوں میں نیکی کا ثواب ملے
حدیث نمبر: 5236
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الأَبْرَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ الْكِنَانِيُّ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مَلأَ آدَمَيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ ، حَسْبُكَ يَا ابْنَ آدَمَ لُقَيْمَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَكَ ، فَإِنْ كَانَ لا بُدَّ ، فَثُلُثٌ طَعَامٌ ، وَثُلُثٌ شَرَابٌ ، وَثُلُثٌ نَفَسٌ " .
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” آدمی پیٹ سے زیادہ برے برتن کو نہیں بھرتا۔ اے ابن آدم تمہارے لئے چند لقمے کافی ہیں جو تمہاری پشت کو قائم رکھیں اگر بہت زیادہ ضروری ہو تو (معدے کا) ایک تہائی حصہ کھانے کے لئے ایک تہائی حصہ پانی کے لئے اور ایک تہائی حصہ سانس لینے کے لئے ہونا چاہئے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأطعمة / حدیث: 5236
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2265). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5213»