کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: کھانے کے آداب کا بیان - یہ سبب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قول کیوں فرمایا
حدیث نمبر: 5235
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ ضَيْفٌ كَافِرٌ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ ، فَشَرِبَ حِلابَهَا ، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَ حِلابَهَا ، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَ حِلابَهَا ، حَتَّى شَرِبَ حِلابَ سَبْعِ شِيَاهٍ ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ ، فَحُلِبَتْ ، فَشَرِبَ حِلابَهَا ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِأُخْرَى ، فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، وَالْكَافِرُ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک کافر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں مہمان کے طور پر آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے لئے بکری کا دودھ دوہ لیا گیا۔ اس نے اس کا دودھ پی لیا پھر دوسری بکری کا دودھ دوہ لیا گیا تو اس نے وہ بھی پی لیا پھر ایک اور کا دھو لیا گیا۔ اس نے وہ بھی پی لیا یہاں تک کہ اس نے سات بکریوں کا دودھ پی لیا۔ اگلے دن وہ مسلمان ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے لئے بکری کا دودھ دوہ لیا گیا تو اس نے اسے پی لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت دوسری بکری کا دودھ دوہ لیا گیا تو وہ اسے مکمل طور پر نہیں پی سکا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” بیشک مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔ “