کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: کھانے کے آداب کا بیان - یہ خبر جو جاہل صوفیوں کے قول کو باطل کرتا ہے کہ میز پر کھانا سنت نہیں
حدیث نمبر: 5223
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ خَالَتِي بِنْتُ الْحَارِثِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا ، " فَدَعَا بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَكَلَ عَلَى مَائِدَتِهِ وَتَرَكَهُنَّ كَالْمُتَقَذِّرِ لَهُنَّ ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَتْ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا أُمِرَ بِأَكْلِهِنَّ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میری خالہ سیدہ ام حفید بنت حارث رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، پنیر اور گوہ پیش کئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منگوایا تو آپ کے دسترخوان پر اسے کھایا گیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ناپسند کرتے ہوئے خود اسے نہیں کھایا اگر یہ حرام ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر نہ کھائی جاتی اور آپ اسے کھانے کا حکم نہ دیتے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأطعمة / حدیث: 5223
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (5198). تنبيه!! رقم (5198) = (5221) من «طبعة المؤسسة». أي: قبله هذا الحديث بحديثين. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5200»