کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: کھانے کے آداب کا بیان - کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کے بعد حمد کرنا جو کھانے سے حاصل ہوا
حدیث نمبر: 5219
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : دَعَا رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا طَعِمَ ، وَغَسَلَ يَدَهُ ، قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَلا يُطْعَمُ ، مَنَّ عَلَيْنَا ، فَهَدَانَا ، وَأَطْعَمَنَا وَسَقَانَا ، وَكُلُّ بَلاءٍ حَسَنٍ أَبْلانَا ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ مِنَ الطَّعَامِ ، وَسَقَى مِنَ الشَّرَابِ ، وَكَسَا مِنَ الْعُرْيِ ، وَهَدَى مِنَ الضَّلالَةِ ، وَبَصَّرَ مِنَ الْعَمَى ، وَفَضَّلَ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلاً ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک انصاری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی چلا گیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھا لیا اور اپنے ہاتھ دھو لئے تو آپ نے یہ پڑھا۔ ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جو کھلاتا ہے اسے کھلایا نہیں جاتا اس نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں ہدایت نصیب کی اس نے ہمیں کھانے کے لئے دیا۔ ہمیں پلایا اور ہمیں اچھی طرح کی صورت حال میں مبتلا کیا۔ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے کھانے میں سے کھلایا اور مشروب میں سے پلایا اور بے لباس جسم کو پہنایا اور گمراہی سے ہدایت نصیب کی۔ نابینا کو بصارت عطا کی اور اس نے اپنی مخلوق میں سے بہت سے لوگوں پر ہمیں فضیلت عطا کی ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأطعمة / حدیث: 5219
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن الإسناد. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5196»