کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: کھانے کے آداب کا بیان - یہ خبر مدحض کہ خالد بن معدان نے ابو امامة سے نہیں سنا
حدیث نمبر: 5218
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، قَالَ : شَهِدْنَا طَعَامًا فِي مَنْزِلِ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَمَعَنَا أَبُو أُمَامَةَ ، فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ عِنْدَ انْقِضَاءِ الطَّعَامِ : مَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ خَطِيبًا ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ عِنْدَ انْقِضَاءِ الطَّعَامِ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا ، طَيِّبًا ، مُبَارَكًا فِيهِ ، غَيْرَ مُوَدَّعٍ ، وَلا مُسْتَغْنًى عَنْهُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ جَشِيبِ ، وَبَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ .
خالد بن معدان بیان کرتے ہیں: ہم لوگ عبدالاعلیٰ کے گھر کھانے پر مدعو تھے۔ ہمارے ساتھ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ کھانے سے فارغ ہونے پر سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے یہ بات پسند نہیں ہے میں خطبہ دینا شروع کر دوں لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے۔ ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے۔ ایسی حمد جو زیادہ ہو پاکیزہ ہو اس میں برکت موجود ہو اسے وداع نہ کیا گیا ہو اور اس سے بے نیازی نہ اختیار کی گئی ہو۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت معاویہ بن صالح نے عامر بن جشیب کے حوالے سے اور بحیر بن سعد نے خالد بن معدان کے حوالے سے سنی ہے تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأطعمة / حدیث: 5218
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5195»