کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - یہ خبر جو ہر شبہے کو دور کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کی علت وہی تھی جو ہم نے بیان کی۔
حدیث نمبر: 5201
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قال : " كُنَّا نُكْرِي الأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى السَّوَاقِي مِنَ الزَّرْعِ وَبِمَا سُقِيَ بِالْمَاءِ مِنْهَا ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، وَرَخَّصَ لَنَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ " .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں زمین کو کرائے پر دیتے تھے کہ کھیت کا جو حصہ بارانی پانی یا نالی کے پانی کے قریب ہے (اس کی پیداوار مالک کو ملے گی) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کر دیا۔ آپ نے ہمیں اس بات کی اجازت دی کہ ہم سونے یا چاندی کے عوض میں زمین کو کرائے پر دے سکتے ہیں۔