کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - یہ خبر جو ان مجمل الفاظ کی وضاحت کرتی ہے جن کا پہلے ذکر ہوا۔
حدیث نمبر: 5196
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الزُّرَقِيُّ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُكْرِي الأَرْضَ ، فَيَسْتَثْنِي صَاحِبَ الأَرْضِ مَا عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ ، فَيَهْلِكُ هَذَا ، وَيَسْلَمُ هَذَا ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ رَافِعٌ : أَمَّا بِشَيْءٍ مَضْمُونٍ مَعْلُومٍ ، فَلا بَأْسَ بِهِ " .
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم زمین کرائے پر دیا کرتے تھے تو زمین کا مالک کھیت کے کسی مخصوص حصے کو اور پانی کی آمد کے آس پاس کی جگہ کو مستثنیٰ کر لیا کرتا تھا تو بعض اوقات ایک حصے کی پیداوار خراب ہو جاتی تھی اور ایک حصے کی ٹھیک رہتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: البتہ اگر کسی متعین چیز کے عوض میں (زمین کو ٹھیکے پر دیا جائے) تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔