کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - یہ تیسری خبر جو وضاحت کرتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «أو ليزرعها» سے مراد ان نامعلوم شرائط والی مزارعت سے روکنا ہے، اسی لیے منیحہ (عارضی عطیہ) کی ترغیب دی گئی۔
حدیث نمبر: 5191
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ ، قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا مُوَافِقًا ، فَقُلْتُ : مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ ؟ " قُلْنَا : نُؤَاجِرُهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالأَوْسُقِ مِنَ الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ ، قَالَ : " فَلا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو النَّجَاشِيِّ اسْمُهُ عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ .
سیدنا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسی چیز سے منع کر دیا جو ہمیں موافق تھی، تو میں نے سوچا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ارشاد فرمائی ہے وہ حق ہے انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” تم لوگ اپنے کھیت کے بارے میں کیا طریقہ کار اختیار کرتے ہو ہم نے عرض کی: ہم ایک تہائی یا ایک چوتھائی پیداوار یا گندم یا جو کے مخصوص وسق کے عوض میں اسے کرائے پر دے دیتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو تم خود اس میں کھیتی باڑی کرو یا دوسرے کو کھیتی باڑی کرنے کے لئے دے دو۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابونجاشی نامی راوی کا نام عطا بن صہیب ہے اور یہ سیدنا رافع بن خدیج کا غلام ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب المزارعة / حدیث: 5191
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (5/ 23). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5168»