کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رشوت کا بیان - اس وضاحت کا بیان کہ «غلول» کا لفظ رشوت پر بھی بولا جا سکتا ہے اگرچہ وہ مالِ فے یا مالِ غنیمت میں سے نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5078
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي أَرْقَمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ لَنَا عَمَلا فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ ، فَهُوَ غَالٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَقَامَ رَجُلٌ أَسْوَدُ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أَرَاهُ مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالَ : اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُكَ تَقُولُ الَّذِي قُلْتَ : قَالَ : " وَأَنَا أَقُولُهُ الآنَ : مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ ، فَمَا أُوتِيَ أَخَذَ ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى " .
عدی کندی جن کا تعلق بنو ارقم سے ہے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اے لوگو! تم میں سے جو شخص ہمارے لئے (زکوۃ وغیرہ وصول کرنے کا) کوئی کام کرتا ہے اور پھر ہم سے اس میں سے کوئی ایک سوئی چھپا لیتا ہے یا اس سے بھی اوپر کی کوئی چیز چھپا لیتا ہے تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو وہ خیانت کرنے والا ہو گا تو ایک سیاہ فام شخص کھڑا ہوا یہ منظر آج بھی گویا کہ میری نگاہ میں ہے۔ میرا خیال ہے وہ ایک انصاری تھا۔ اس نے گزارش کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! جو آپ نے مجھے ذمہ داری عطا کی تھی۔ اسے واپس لے لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا وہ کیوں اس نے عرض کی: میں نے ابھی آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ جس شخص کو ہم کسی کام کا نگران مقرر کریں وہ تھوڑی اور زیادہ سب چیزیں لے کر آئے جو اسے دیا جائے اسے وصول کر لے جس چیز سے اسے منع کیا جائے اس سے باز آ جائے۔ “