باب: - قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے طرف سے عادل حاکم سے سخت حساب لینے کا بیان
حدیث 5055–5055
باب: - یہ بیان کہ اگر کسی شخص کو معلوم ہو جائے کہ مسلمانوں کے فیصلے میں حق پر چلنا ممکن نہیں تو اس کے فیصلے میں شریک ہونے سے منع کیا گیا ہے۔
حدیث 5056–5056
باب: - یہ خبر کہ اللہ جل وعلا نے آیت «وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ» کیوں نازل فرمائی، اس کا سبب بیان کیا گیا ہے۔
حدیث 5057–5057
باب: - یہ خبر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ کمزوروں کی مدد کرے اور ان کا حق طاقتوروں سے دلائے۔
حدیث 5058–5058
باب: - یہ حکم کہ انسان کو چاہیے کہ اگر وہ طاقت رکھتا ہے تو کمزور کا حق طاقتور سے لے کر اسے دلائے۔
حدیث 5059–5059
باب: - یہ بیان کہ اللہ جل وعلا نے اس حاکمِ مجتہد کو، جو اپنے فیصلے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اجتہاد کرے اور درست فیصلہ کرے، دو اجر عطا فرمائے ہیں۔
حدیث 5060–5060
باب: - یہ بیان کہ اللہ جل وعلا نے اس حاکمِ مجتہد کے لیے، جو اجتہاد میں خطا کرے، ایک اجر لکھا ہے۔
حدیث 5061–5061
باب: - یہ بیان کہ اللہ جل وعلا اس حاکم کو اس کے فیصلے پر معاف فرماتا ہے جب تک وہ ظلم اور جانب داری سے بچتا رہے۔
حدیث 5062–5062
باب: - یہ تنبیہ کہ حاکم کو ایسی حالت میں فیصلہ نہیں کرنا چاہیے جب اس کا مزاج اعتدال پر نہ ہو۔
حدیث 5063–5063
باب: - یہ تنبیہ کہ حاکم کو مسلمانوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہیں کرنا چاہیے جب اس کی طبیعت اپنی معمول کی حالت سے بدل گئی ہو۔
حدیث 5064–5064
باب: - یہ بیان کہ قاضی کو فیصلہ کرتے وقت کس طرح کا ادب و طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔
حدیث 5065–5065
باب: - یہ خبر کہ حاکم کو اختیار ہے کہ فریقین کو کسی ایسی بات سے ڈرائے جسے وہ نافذ کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، اگر اس سے وہ حقیقت کو واضح کرنا چاہتا ہو جو اس پر مخفی ہے۔
حدیث 5066–5066
باب: - یہ بیان کہ مسلمانوں کی عام گزرگاہوں (راستوں) کے متعلق اختلاف کی صورت میں فیصلہ کیسے کیا جائے۔
حدیث 5067–5067
باب: - یہ بیان کہ اگر دونوں مدعی ایک ہی چیز پر گواہی پیش کریں تو حاکم کس طرح فیصلہ کرے۔
حدیث 5068–5068
باب: - یہ بیان کہ انسان پر لازم ہے کہ اللہ کے حکم کے آگے سر جھکائے اگرچہ بظاہر اسے وہ ناپسند ہو۔
حدیث 5069–5069
باب: - یہ تنبیہ کہ اگر حاکم کسی کے حق میں گواہوں کی بنیاد پر فیصلہ دے، مگر وہ شخص اپنے ضمیر میں جانتا ہو کہ یہ فیصلہ غلط ہے، تو اسے وہ چیز نہیں لینی چاہیے۔
حدیث 5070–5070
باب: - یہ تنبیہ کہ اگر انسان جانتا ہو کہ حاکم کا فیصلہ اللہ کے ہاں اس کے خلاف ہے تو اسے وہ چیز نہیں لینی چاہیے جس کا فیصلہ اس کے حق میں ہوا ہو۔
حدیث 5071–5072
باب: - یہ بیان کہ اگر کسی کے پاس اپنے دعوے پر صرف ایک گواہ ہو تو ایسے معاملے میں کیسے فیصلہ کیا جائے۔
حدیث 5073–5073
باب: - یہ خبر جس سے بعض ناواقف لوگوں کو یہ گمان ہوا کہ یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے خلاف ہے جسے ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
حدیث 5074–5074
باب: - یہ خبر جو اس قول کو باطل قرار دیتی ہے جس نے کہا کہ احکام میں قرعہ (چٹھی ڈالنا) کا استعمال جائز نہیں۔
حدیث 5075–5075
باب: رشوت کا بیان - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے فیصلوں میں رشوت لینے اور دینے والوں پر لعنت فرمائی۔
حدیث 5076–5076
باب: رشوت کا بیان - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے معاملات میں رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی اگرچہ وہ اسباب بذات خود فیصلے تک نہ پہنچتے ہوں۔
حدیث 5077–5077
باب: رشوت کا بیان - اس وضاحت کا بیان کہ «غلول» کا لفظ رشوت پر بھی بولا جا سکتا ہے اگرچہ وہ مالِ فے یا مالِ غنیمت میں سے نہ ہو۔
حدیث 5078–5078
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔