کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - یہ خبر جو اس قول کو باطل قرار دیتی ہے جس نے کہا کہ احکام میں قرعہ (چٹھی ڈالنا) کا استعمال جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 5075
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَقَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٍ ، وَسِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَعَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ : " أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ ، فَأَقْرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ ، وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ " .
ایک سند کے مطابق سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور ایک سند کے مطابق سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے اپنے مرنے کے قریب چھ غلاموں کو آزاد کر دیا۔ اس شخص کے پاس اس غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کروائی اور ان میں سے دو کو آزاد قرار دیا اور چار کو غلام رہنے دیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب القضاء / حدیث: 5075
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «أحكام الجنائز» (ص 17). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5052»