کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - یہ خبر کہ حاکم کو اختیار ہے کہ فریقین کو کسی ایسی بات سے ڈرائے جسے وہ نافذ کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، اگر اس سے وہ حقیقت کو واضح کرنا چاہتا ہو جو اس پر مخفی ہے۔
حدیث نمبر: 5066
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ امْرَأَتَيْنِ أَتَتَا دَاوُدَ ، وَكُلُّ وَاحِدَةٍ تَخْتَصِمُ فِي ابْنِهَا ، فَقَضَى لِلْكُبْرَى ، فَلَمَّا خَرَجَتَا ، قَالَ سُلَيْمَانُ : كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمَا ؟ فَأَخْبَرَتَاهُ ، فَقَالَ : ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ ، وَأَوَّلُ مَنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ السِّكِّينُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّمَا كُنَّا نُسَمِّيهَا الْمُدْيَةَ ، فَقَالَتِ الصُّغْرَى : مَهْ ؟ قَالَ : أَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا ، قَالَتِ : ادْفَعْهُ إِلَيْهَا ، وَقَالَتِ : الْكُبْرَى شُقَّهُ بَيْنَنَا ، قَالَ : فَقَضَاهُ سُلَيْمَانُ لِلصُّغْرَى ، وَقَالَ : لَوْ كَانَ ابْنَكِ لَمْ تَرْضَيْ أَنْ نَشُقَّهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” دو خواتین سیدنا داؤد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں وہ ایک بچے کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھیں۔ سیدنا داؤد علیہ السلام نے بڑی عمر کی عورت کے حق میں فیصلہ لے لیا جب وہ دونوں وہاں سے نکلی تو سیدنا سلیمان علیہ سلام نے دریافت کیا سیدنا داؤد علیہ سلام نے تم دونوں کے درمیان کیا فیصلہ دیا ہے۔ ان دونوں خواتین نے سیدنا سلیمان علیہ السلام کو اس بارے میں بتایا تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے فرمایا تم میرے پاس چھری لے کر آؤ (راوی کہتے ہیں: پہلی مرتبہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی لفظ ” سکین“ سنا کیونکہ ہم لوگ چھری کے لئے لفظ مدیہ استعمال کرتے ہیں) تو چھوٹی عمر کی عورت نے دریافت کیا: وہ کیوں؟ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے کہا: میں اس بچے کو تم دونوں کے درمیان تقسیم کر دوں گا۔ اس عورت نے کہا: آپ اس بچے کو اس بڑی عمر کی عورت کے سپرد کر دیں جب کہ بڑی عمر کی عورت نے کہا: آپ اسے ہمارے درمیان تقسیم کر دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے چھوٹی عمر کی عورت کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ انہوں نے فرمایا: اگر یہ تمہارا بیٹا ہوتا تو تم اس بات سے راضی نہ ہوتی کہ اس کے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔