کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - یہ بیان کہ قاضی کو فیصلہ کرتے وقت کس طرح کا ادب و طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 5065
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْزِيُّ بِالْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِسَالَةٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَبْعَثُنِي وَأَنَا غُلامٌ حَدِيثُ السِّنِّ ؟ فَأُسْأَلُ عَنِ الْقَضَاءِ وَلا أَدْرِي مَا أُجِيبُ ، قَالَ : " مَا بُدٌّ مِنْ ذَلِكَ أَنْ أَذْهَبَ بِهَا أَنَا أَوْ أَنْتَ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَإِنْ كَانَ وَلا بُدَّ أَذْهِبُ أَنَا ، فَقَالَ : " انْطَلِقْ ، فَاقْرَأْهَا عَلَى النَّاسِ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُثَبِّتُ لِسَانَكَ ، وَيَهْدِي قَلْبَكَ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ النَّاسَ سَيَتَقَاضُونَ ، فَإِذَا أَتَاكَ الْخَصْمَانِ ، فَلا تَقْضِي لِوَاحِدٍ حَتَّى تَسْمَعَ كَلامَ الآخَرِ ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ تَعْلَمَ لِمَنِ الْحَقُّ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام رساں (یعنی گورنر) کر بھیجا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ مجھے بھیج رہے ہیں میں ایک کم عمر آدمی ہوں۔ مجھ سے قضاء کے بارے میں دریافت کیا جائے گا اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا جواب دوں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس کے بغیر کوئی چارا بھی نہیں ہے یا مجھے جانا ہو گا یا تم چلے جاو۔ سیدنا علی کہتے ہیں، میں نے عرض کی: اگر اس کے بغیر کوئی چارا نہیں ہے تو پھر میں چلا جاتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جاؤ اور اسے لوگوں کے سامنے تلاوت کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا۔ تمہارے دل کو ہدایت پر ثابت رکھے گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگ اپنے مقامات لے کر آئیں گے جب دو فریق تمہارے پاس آئیں تو تم کسی بھی فریق کے حق میں اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک دوسرے فریق کا کلام نہ سن لو کیونکہ یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے تمہیں پتہ چل جائے گا، حق پر کون ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب القضاء / حدیث: 5065
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - انظر التعليق. * [بِرِسَالَةٍ] قال الشيخ: وكذا في «طبعة المؤسسة» (11/ 451)، وفي «الموارد» (370/ 1539): بـ {براءة}، وَلَعَلَّه أَصحّ؛ فَإِنَّهُ كذلك في «مسند أحمد» - مِنْ زوائد عبد الله - (1/ 150) - مِنْ طريق أُخرى عن عمرو بن حماد. * [التعليق] قال الشيخ: إِسنادُه ضعيفٌ سِمَاكُ بنُ حَربٍ مُضطربُ الرواية عن عِكرمةَ. وأَسباط فيه ضعفٌ، قال الحافظ: «صدوق كثير الخطأ». وقد خَلَطَ هو - أو شيخه - بين قِصَّةِ بعث عَلِيٍّ إلى الحج، وقِصَّة إِرساله إلى اليمن، وكلاهما ثابت، لكنَّ قوله: «إِنَّ اللهَ يُثبِّتُ لسانَك .. » إِنَّما هو في القصَّه الثانية، وهي مُخَرَّجهٌ في «الإرواء» (8/ 226 - 228) من طريق نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5042»