کتب حدیث › صحیح ابن حبان › ابواب ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب — صحیح ابن حبان ذكر الإخبار عن وصف مناقشة الله في القيامة الحاكم العادل إذا كان في الدنيا- باب: - قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے طرف سے عادل حاکم سے سخت حساب لینے کا بیان حدیث 5055–5055 ذكر الزجر عن دخول المرء في قضاء المسلمين إذا علم تعذر سلوك الحق فيه- باب: - یہ بیان کہ اگر کسی شخص کو معلوم ہو جائے کہ مسلمانوں کے فیصلے میں حق پر چلنا ممکن نہیں تو اس کے فیصلے میں شریک ہونے سے منع کیا گیا ہے۔ حدیث 5056–5056 ذكر الإخبار عن السبب الذي من أجله أنزل الله جل وعلا وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط- باب: - یہ خبر کہ اللہ جل وعلا نے آیت «وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ» کیوں نازل فرمائی، اس کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ حدیث 5057–5057 ذكر الإخبار عما يجب على المرء من معونة الضعفاء وأخذ مالهم من الأقوياء- باب: - یہ خبر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ کمزوروں کی مدد کرے اور ان کا حق طاقتوروں سے دلائے۔ حدیث 5058–5058 ذكر الأمر للمرء أن يأخذ للضعيف من القوي إذا قدر على ذلك- باب: - یہ حکم کہ انسان کو چاہیے کہ اگر وہ طاقت رکھتا ہے تو کمزور کا حق طاقتور سے لے کر اسے دلائے۔ حدیث 5059–5059 ذكر إعطاء الله جل وعلا الحاكم المجتهد لله ولرسوله صلى الله عليه وسلم في حكمه أجرين إذا أصاب فيه- باب: - یہ بیان کہ اللہ جل وعلا نے اس حاکمِ مجتہد کو، جو اپنے فیصلے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اجتہاد کرے اور درست فیصلہ کرے، دو اجر عطا فرمائے ہیں۔ حدیث 5060–5060 ذكر كتبة الله جل وعلا للحاكم المجتهد في قضائه أجرا واحدا إذا أخطأ فيه- باب: - یہ بیان کہ اللہ جل وعلا نے اس حاکمِ مجتہد کے لیے، جو اجتہاد میں خطا کرے، ایک اجر لکھا ہے۔ حدیث 5061–5061 ذكر مغفرة الله جل وعلا للحاكم على حكمه ما دام يتجنب الحيف والميل فيه- باب: - یہ بیان کہ اللہ جل وعلا اس حاکم کو اس کے فیصلے پر معاف فرماتا ہے جب تک وہ ظلم اور جانب داری سے بچتا رہے۔ حدیث 5062–5062 ذكر الزجر عن أن يحكم الحاكم وحالته غير معتدلة في الاعتدال- باب: - یہ تنبیہ کہ حاکم کو ایسی حالت میں فیصلہ نہیں کرنا چاہیے جب اس کا مزاج اعتدال پر نہ ہو۔ حدیث 5063–5063 ذكر الزجر عن أن يحكم الحاكم بين المسلمين عند تغير طبعه عن عادته التي اعتادها- باب: - یہ تنبیہ کہ حاکم کو مسلمانوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہیں کرنا چاہیے جب اس کی طبیعت اپنی معمول کی حالت سے بدل گئی ہو۔ حدیث 5064–5064 ذكر أدب القاضي عند إمضائه الحكم بين الخصمين- باب: - یہ بیان کہ قاضی کو فیصلہ کرتے وقت کس طرح کا ادب و طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ حدیث 5065–5065 ذكر الخبر الدال على أن الحاكم له أن يهدد الخصمين بما لا يريد أن يمضيه إذا أراد استكشاف واضح خفي عليه- باب: - یہ خبر کہ حاکم کو اختیار ہے کہ فریقین کو کسی ایسی بات سے ڈرائے جسے وہ نافذ کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، اگر اس سے وہ حقیقت کو واضح کرنا چاہتا ہو جو اس پر مخفی ہے۔ حدیث 5066–5066 ذكر وصف ما يحكم للمختلفين في طرق المسلمين عند الإمكان- باب: - یہ بیان کہ مسلمانوں کی عام گزرگاہوں (راستوں) کے متعلق اختلاف کی صورت میں فیصلہ کیسے کیا جائے۔ حدیث 5067–5067 ذكر ما يحكم الحاكم للمدعيين شيئا معلوما مع إثبات البينة لهما معا على ما يدعيان- باب: - یہ بیان کہ اگر دونوں مدعی ایک ہی چیز پر گواہی پیش کریں تو حاکم کس طرح فیصلہ کرے۔ حدیث 5068–5068 ذكر ما يجب على المرء من الانقياد لحكم الله وإن كرهه في الظاهر- باب: - یہ بیان کہ انسان پر لازم ہے کہ اللہ کے حکم کے آگے سر جھکائے اگرچہ بظاہر اسے وہ ناپسند ہو۔ حدیث 5069–5069 ذكر الزجر عن أن يأخذ المرء ما حكم له الحاكم بالشهود إذا علم ضده بينه وبين خالقه فيه- باب: - یہ تنبیہ کہ اگر حاکم کسی کے حق میں گواہوں کی بنیاد پر فیصلہ دے، مگر وہ شخص اپنے ضمیر میں جانتا ہو کہ یہ فیصلہ غلط ہے، تو اسے وہ چیز نہیں لینی چاہیے۔ حدیث 5070–5070 ذكر الزجر عن أخذ المرء ما حكم له الحاكم إذا علم بينه وبين خالقه ضده- باب: - یہ تنبیہ کہ اگر انسان جانتا ہو کہ حاکم کا فیصلہ اللہ کے ہاں اس کے خلاف ہے تو اسے وہ چیز نہیں لینی چاہیے جس کا فیصلہ اس کے حق میں ہوا ہو۔ حدیث 5071–5072 ذكر ما يحكم لمن ليس له إلا شاهد واحد على شيء يدعيه- باب: - یہ بیان کہ اگر کسی کے پاس اپنے دعوے پر صرف ایک گواہ ہو تو ایسے معاملے میں کیسے فیصلہ کیا جائے۔ حدیث 5073–5073 ذكر خبر أوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد لخبر أبي هريرة الذي ذكرناه- باب: - یہ خبر جس سے بعض ناواقف لوگوں کو یہ گمان ہوا کہ یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے خلاف ہے جسے ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ حدیث 5074–5074 ذكر الخبر المدحض قول من نفى جواز استعمال القرعة في الأحكام- باب: - یہ خبر جو اس قول کو باطل قرار دیتی ہے جس نے کہا کہ احکام میں قرعہ (چٹھی ڈالنا) کا استعمال جائز نہیں۔ حدیث 5075–5075 باب الرشوة - ذكر لعن المصطفى صلى الله عليه وسلم من استعمل الرشوة في أحكام المسلمين- باب: رشوت کا بیان - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے فیصلوں میں رشوت لینے اور دینے والوں پر لعنت فرمائی۔ حدیث 5076–5076 باب الرشوة - ذكر لعن المصطفى صلى الله عليه وسلم المرتشي في أسباب المسلمين وإن لم يكن مسلك تلك الأسباب تؤدي إلى الحكم- باب: رشوت کا بیان - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے معاملات میں رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی اگرچہ وہ اسباب بذات خود فیصلے تک نہ پہنچتے ہوں۔ حدیث 5077–5077 باب الرشوة - ذكر البيان بأن اسم الغلول قد يقع على الرشوة وإن لم تكن من الفيء والغنيمة- باب: رشوت کا بیان - اس وضاحت کا بیان کہ «غلول» کا لفظ رشوت پر بھی بولا جا سکتا ہے اگرچہ وہ مالِ فے یا مالِ غنیمت میں سے نہ ہو۔ حدیث 5078–5078 اس باب کی تمام احادیث ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯