کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قرض و ادائیگی کا بیان - اللہ تعالیٰ کا قرض دینے والے کے لیے دوگنا اجر لکھنے کا بیان، جن میں سے ایک صدقہ ہے
حدیث نمبر: 5040
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ أَبِي مُعَاذٍ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ ، كَانَ يَسْتَقْرِضُ مِنْ تَاجِرٍ ، فَإِذَا خَرَجَ عَطَاؤُهُ قَضَاهُ ، فَقَالَ الأَسْوَدُ : إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ عَنْكَ ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ عَلَيْنَا حُقُوقٌ فِي هَذَا الْعَطَاءِ ، فَقَالَ لَهُ التَّاجِرُ : لَسْتَ فَاعِلا ، فَنَقَدَهُ الأَسْوَدُ خَمْسَ مِئَةِ دِرْهَمٍ حَتَّى إِذَا قَبَضَهَا ، قَالَ لَهُ التَّاجِرُ : دُونَكَهَا ، فَخُذْ بِهَا ، فَقَالَ لَهُ الأَسْوَدُ : قَدْ سَأَلْتُكَ هَذَا فَأَبَيْتَ ، فَقَالَ لَهُ التَّاجِرُ : إِنِّي سَمِعْتُكَ تُحَدِّثُنَا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " مَنْ أَقْرَضَ اللَّهَ مَرَّتَيْنِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ أَحَدِهِمَا لَوْ تَصَدَّقَ بِهِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْفُضَيْلُ أَبُو مُعَاذٍ هَذَا هُوَ الْفُضَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، وَأَبُو حَرِيزٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ قَاضِي سِجِسْتَانَ حَدَّثَ بِالْبَصْرَةِ .
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں: اسود بن یزید ایک تاجر سے قرض لیا کرتے تھے جب ان کی تنخواہ آتی تھی، تو وہ ادائیگی کر دیا کرتے تھے۔ اسود نے کہا: اگر تم چاہو، تو میں تمہیں ایک مرتبہ تاخیر سے ادائیگی کروں گا کیونکہ اس مرتبہ اس تنخواہ میں مجھے کچھ دیگر اخراجات بھی پورے کرنے ہیں تو تاجر نے ان سے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا تو اسود نے پانچ سو درہم اسے نقد ادا کر دیئے یہاں تک کہ اس تاجر نے وہ اپنے قبضے میں لے لئے تو تاجر نے ان سے کہا: یہ آپ کے حوالے ہیں۔ آپ انہیں لے لیں، اسود نے اس سے دریافت کیا پہلے جب میں نے تم سے یہ درخواست کی تھی، تو تم نے میری یہ بات نہیں مانی تھی تو تاجر نے ان سے کہا: میں نے آپ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے آپ نے ہمیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ” جو شخص اللہ کے نام پر کسی کو دو مرتبہ قرض دیتا ہے تو اسے ان دو میں سے ایک مرتبہ صدقہ کرنے کا اجر ملتا ہے۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) فضیل ابومعاذ نامی راوی فضیل بن میسرہ ہیں یہ اہل بصرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابوحریز نامی راوی عبداللہ بن حصین ہیں یہ سجستان کے قاضی تھے اور انہوں نے بصرہ میں حدیثیں بیان کی ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البيوع / حدیث: 5040
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (1553)، «المشكاة» (2829 / التحقيق الثاني)، «التعليق الرغيب» (2/ 34). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5018»