کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دیوالیہ کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس قول کو باطل کرتا ہے کہ یہ حدیث امانت (ودیعت) کے بارے میں وارد ہوئی ہے، بیع و شراء کے بارے میں نہیں
حدیث نمبر: 5037
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا ابْتَاعَ الرَّجُلُ سِلْعَةً ، ثُمَّ فَلَّسَ وَهِيَ عِنْدَهُ بِعَيْنِهَا ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا مِنَ الْغُرَمَاءِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب کوئی شخص کوئی سامان خریدے اور پھر وہ مفلس ہو جائے اور وہ سامان بعینہ اس کے پاس ہو تو (اسے فروخت کرنے والا) دیگر قرض خواہوں کی بہ نسبت اسے لینے کا زیادہ حق دار ہو۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البيوع / حدیث: 5037
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5015»