کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: آفت و نقصان کا بیان - بیان کہ آفت کے بعد پھل کی قیمت لینے سے روکنا تحریم کے طور پر ہے نہ کہ صرف ترغیب کے طور پر
حدیث نمبر: 5034
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا ، فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ ، فَلا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا بِمَ تَأْخُذُ مِنْ مَالِ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ " ، قُلْتُ لأَبِي الزُّبَيْرِ : هَلْ سَمَّى لَكُمُ الْجَوَائِحَ ؟ ، قَالَ : لا .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم اپنے کسی بھائی سے پھل خریدتے ہو اور اسے آفت لاحق ہو جاتی ہے تو تمہارے لئے اس میں سے کچھ بھی لینا جائز نہیں ہے تم ناحق طور پر اپنے بھائی کے مال میں سے کس بنیاد پر حاصل کرو گے۔
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے استاد ابوزبیر سے دریافت کیا: کیا تمہارے استاد نے تمہارے سامنے لاحق ہونے والی آفت کا نام لیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البيوع / حدیث: 5034
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (5/ 113)، «أحاديث البيوع»: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5012»