کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: آفت و نقصان کا بیان - بیان کہ بائع کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ آفت زدہ پھل کی باقی قیمت وصول کرے
حدیث نمبر: 5033
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : " أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا ، فَكَثُرَ دَيْنُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ " ، فَتُصُدِّقَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ ، وَلَيْسَ لَكُمْ إِلا ذَلِكَ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کو پھلوں میں نقصان ہو گیا جو اس نے خریدے تھے اس کا قرض زیادہ ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اس کو صدقہ دو اس شخص کو صدقہ دیا گیا، لیکن وہ پھر بھی اس کے قرض کی پوری ادائیگی تک نہیں پہنچ سکا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (یعنی قرض خواہوں سے فرمایا) تمہیں جو مل رہا ہے وہ حاصل کر لو تمہیں صرف یہی ملے گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البيوع / حدیث: 5033
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1437): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5011»