کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سود کا بیان - بیان کہ ایک صاع کھجور کو دو صاع کھجور کے بدلے بیچنا سود ہے
حدیث نمبر: 5022
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالَ : اشْتَرَيْتُهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا لا تَفْعَلْ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں برمی کھجور لے کر آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ کہاں سے آئی ہیں؟ اس نے بتایا میں نے دو صاع کے عوض میں اس کا ایک صاع خریدا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: افوہ، یہ تو عین سود ہے تم ایسا نہ کرو۔