کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سود کا بیان - بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «بع تمرك» (اپنی کھجور بیچو) سے مراد دراہم (نقد) کے بدلے بیچنا ہے
حدیث نمبر: 5021
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلا عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكَلَ تَمْرَكَ هَكَذَا ؟ " قَالَ : لا ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاثِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلا تَفْعَلْ ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر کا نگران مقرر کیا وہ شخص عمدہ قسم کی کھجوریں لے کر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا وہاں کی تمام کھجوریں اسی طرح کی ہوتی ہیں؟ اس نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ کی قسم ہم نے دو صاع کھجوروں کے عوض میں اس کا ایک صاع حاصل کیا ہے اور تین صاع کے عوض میں دو صاع حاصل کئے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ایسا نہ کرو تم کھجوروں کو درہم کے عوض میں فروخت کرو اور پھر درہم کے عوض میں اچھی قسم کی کھجوریں خرید لو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البيوع / حدیث: 5021
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1340)، «أحاديث البيوع»: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5000»