کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سود کا بیان - ایک صاع کھجور کو دو صاع کھجور کے بدلے بیچنے سے روک کا بیان اگرچہ ایک دوسری سے کمتر ہو
حدیث نمبر: 5020
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ رَيَّانَ ، وَكَانَ تَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْلا فِيهِ يُبْسٌ ، فَقَالَ : " أَنَّى لَكُمْ هَذَا ؟ " قَالُوا : ابْتَعْنَاهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا ، قَالَ : " فَلا تَفْعَلْ إِنَّ هَذَا لا يَصْلُحُ ، وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ ، ثُمَّ اشْتَرِ مِنْ هَذَا حَاجَتَكَ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تازہ کھجوریں لائی گئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوریں دوسری قسم کی تھیں جن میں کچھ خشک تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ کہاں سے آئی ہیں لوگوں نے بتایا: ہم نے اپنی کھجوروں کے دو صاع کے عوض میں اس کا ایک صاع خریدا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو یہ درست نہیں ہے بلکہ تم اپنی کھجوروں کو (کسی اور چیز کے عوض میں) فروخت کرو (پھر اس چیز کے عوض میں) اپنی ضرورت کی چیز کو خرید لو۔