کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سود کا بیان - معلوم اجناس کو اپنی جنس کے بدلے برابری کے بغیر بیچنے سے روک کا بیان
حدیث نمبر: 5015
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، قَالَ : كَانَ أُنَاسٌ يَتَبَايَعُونَ آنِيَةَ فِضَّةٍ فِي مَغْنَمٍ إِلَى الْعَطَاءِ ، فَقَالَ عُبَادَةُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ ، وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ ، إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى " .
ابواشعت بیان کرتے ہیں: پہلے لوگ مال غنیمت میں سے چاندی کے کسی برتن کی، تنخواہ ملنے تک خرید و فروخت کر لیتے تھے، تو سیدنا عبادہ نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے عوض میں سونے اور چاندی کے عوض میں چاندی گندم کے عوض میں گندم جو کے عوض میں جو کھجور کے عوض میں کھجور نمک کے عوض میں نمک کا لین دین کرنے سے منع کیا ہے۔ ماسوائے اس کے جو برابر برابر ہو اور دست بدست ہو جو شخص زیادہ ادائیگی کرے یا زیادہ ادائیگی کا طلب گار ہو وہ سود کا کام کرے گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البيوع / حدیث: 5015
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4994»