کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ممنوعہ بیوع کا بیان - اس علت کا بیان جس کی وجہ سے پھل کو پھل کے بدلے بیچنے سے روکا گیا
حدیث نمبر: 5003
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ ، فَقَالَ : أَيُّهُمَا أَفْضَلُ ؟ قَالَ : الْبَيْضَاءُ ، فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ عَنْ يَبِسِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، " فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ " .
ابوعیاش زید بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی االلہ عنہ سے جو کی ایک قسم کے عوض میں دوسری قسم کے لین دین کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے دریافت کیا ان دونوں میں سے کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے انہوں نے جواب دیا: سفید والا، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی االلہ عنہ نے انہیں اس سے منع کر دیا اور یہ بات بتائی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا۔ آپ سے تر کھجور کے عوض میں خشک کھجور کو فروخت کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تر کھجور خشک ہو کر کم ہو جاتی ہے؟ سائل نے جواب دیا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس سے منع کر دیا۔