کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ممنوعہ بیوع کا بیان - بیان کہ عریہ سے مراد تر کھجوروں کو خشک کھجوروں کے بدلے بیچنا ہے
حدیث نمبر: 5001
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ " .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ والے شخص کو رخصت دی ہے، وہ اندازے کے تحت کھجوروں کو فروخت کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 5002
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالثَّمَرِ ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا ، وَالْعَرِيَّةُ أَنْ يَأْكُلَهَا أَهْلُهَا رُطَبًا " .
سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے عوض میں پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے البتہ آپ نے عریہ کے بارے میں اجازت دی ہے، اسے اندازے کے تحت فروخت کیا جا سکتا ہے ” عریہ “ یہ ہے: اس کے اہل خانہ تازہ کھجوریں کھا لیں۔