کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ممنوعہ بیوع کا بیان - اس علت کا بیان جس کی وجہ سے بیعِ مزابنہ سے روکا گیا
حدیث نمبر: 4997
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ زَيْدِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، " أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ بَيْعِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ عَنْ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ ، فَقَالَ : " أَلَيْسَ يَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا جَفَّ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَلا إِذَا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْبَيْضَاءُ الرُّطَبُ مِنَ السُّلْتِ بِالْيَابِسِ مِنَ السُّلْتِ " .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ان سے ایک قسم کے جو کی دوسری قسم کے جو کے عوض میں فروخت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ سے تر کھجور کے عوض میں خشک کھجور کا سودا کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا تر کھجور سوکھنے پر کم نہیں ہو جاتی؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ایسا نہیں ہو گا (یعنی یہ درست نہیں ہو گا)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس سے مراد یہ ہے: تر جو کو خشک جو کے عوض میں فروخت
کیا جائے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البيوع / حدیث: 4997
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «أحاديث البيوع»، «الإرواء» (1352). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4976»