کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ممنوعہ بیوع کا بیان - وہ علت بیان کی گئی جس کی وجہ سے اس بیع سے ممانعت کی گئی۔
حدیث نمبر: 4967
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، أَخْبَرَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ التَّمَّارُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَدِمَ زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثِينَ حِمْلِ شَعِيرٍ وَتَمْرٍ ، فَسَعَّرَ مُدًّا بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَيْسَ فِي النَّاسِ يَوْمَئِذٍ طَعَامٌ غَيْرُهُ ، وَكَانَ قَدْ أَصَابَ النَّاسَ قَبْلَ ذَلِكَ جُوعٌ لا يَجِدُونَ فِيهِ طَعَامًا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ يَشْكُونَ إِلَيْهِ غَلاءَ السِّعْرِ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " لا أَلْقَيَنَّ اللَّهَ مِنْ قَبْلِ أَنْ أُعْطِيَ أَحَدًا مِنْ مَالِ أَحَدٍ مِنْ غَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ ، إِنَّمَا الْبَيْعُ عَنْ تَرَاضٍ ، وَلَكِنَّ فِي بُيُوعِكُمْ خِصَالا أَذْكُرُهَا لَكُمْ ، لا تُضَاغِنُوا ، وَلا تَنَاجَشُوا ، وَلا تَحَاسَدُوا ، وَلا يَسُومُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، وَلا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَالْبَيْعُ عَنْ تَرَاضٍ ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک یہودی تئیس اونٹوں پر لاد کر جو اور کھجوریں لے آیا۔ اس نے ایک مد کی قیمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے زیادہ مقرر کر دی۔ ان دنوں لوگوں کے پاس اس کے علاوہ اناج حاصل کرنے کا اور کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ اس سے پہلے وہ بھوک کا شکار ہو چکے تھے۔ انہیں اس دوران اناج نہیں ملتا تھا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کی شکایت کی کہ قیمت زیادہ ہو گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منیر پر چڑھے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں ہرگز حاضر نہیں ہوں گا کہ میں نے کسی کا مال اس کی ناپسندیدگی کے ساتھ کسی دوسرے کو دیا ہو۔ خرید و فروخت باہمی رضامندی سے ہوتی ہے تاہم تمہاری خرید و فروخت میں کچھ چیزیں ہیں جن کے حوالے سے میں تمہیں نصیحت کرنا چاہتا ہوں تم ایک دوسرے کے لئے کینہ نہ رکھو۔ ایک دوسرے کے مقابلے میں بولی: نہ لگاؤ۔ آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ رکھو اور کوئی شخص اپنے بھائی کی بولی: پر بولی: نہ لگائے اور شہری شخص دیہاتی کے لئے ہرگز (کوئی چیز) فروخت نہ کرے۔ خرید و فروخت باہمی رضامندی سے ہوتی ہے تم اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کے رہو۔