کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ممنوعہ بیوع کا بیان - مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی نیت سے اضافی پانی روکنے سے ممانعت۔
حدیث نمبر: 4954
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلأُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَضْمَرَ فِيهِ الْمَاءَ الَّذِي لا يَقَعُ فِيهِ الْحَوْزُ وَلا يَتَمَلَّكُهُ أَحَدٌ مَا دَامَ مَشَاعًا مِثْلَ الْمِيَاهِ الْجَارِيَةِ الْمُشْتَرِكَةِ بَيْنَ النَّاسِ ، وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَاهُ الْمَاءُ الَّذِي يَكُونُ لِلْمَرْءِ فِي الْبَادِيَةِ مِنْ بِئْرٍ أَوْ عَيْنٍ فَيَنْتَفِعُ بِهِ ، وَيَمْنَعُ النَّاسَ مَا فَضَلَ عَنْهُ ، فَنُهِيَ عَنْ مَنْعِ الْمُسْلِمِينَ مَا فَضَلَ مِنْ مَائِهِ بَعْدَ قَضَاءِ حَاجَتِهِ عَنْهُ ، لأَنَّ فِي مَنْعِهِ ذَلِكَ مَنْعَ النَّاسِ عَنِ الْكَلإِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” اضافی پانی سے منع نہ کیا جائے ورنہ اس کے نتیجے میں گھاس اگنا بند ہو جائے گی۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس میں یہ بات پوشیدہ ہے اس سے مراد وہ پانی ہے جس میں حوز واقع نہ ہو۔ (یعنی اس کے اردگرد چار دیواری کھڑی نہ ہو) کوئی ایک شخص اس کا مالک نہ ہو اور وہ لوگوں کے درمیان مشترکہ طور پر استعمال ہوتا ہو، جو بہتے ہوئے پانی کی مانند ہو جو مشترک ہوتا ہے اور اس میں اس بات کا احتمال موجود ہے، اس سے مراد وہ پانی ہو جو جنگل میں کنویں کا یا چشمے کا پانی ہوتا ہے اور اس کے ذریعے نفع حاصل کیا جاتا ہے تو آدمی اضافی پانی کے استعمال سے لوگوں کو منع کر دے۔ اور اس بات سے منع کیا گیا ہے اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد مسلمانوں کو اضافی پانی استعمال کرنے سے روک دیا جائے کیونکہ اس سے روکنے کے نتیجے میں لوگوں کو گھاس ملنے سے روکنا بھی لازم آئے گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البيوع / حدیث: 4954
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الضعيفة» تحت الحديث (4261)، «البيوع»: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4933»