کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: بیعِ مدبر کا بیان - بیان کہ جابر رضی اللہ عنہ کا قول «أعتق غلاما له» سے مراد تدبیر کے ساتھ آزاد کرنا ہے نہ کہ مکمل آزادی۔
حدیث نمبر: 4931
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : أَبُو مَذْكُورٍ دَبَّرَ غُلامًا لَهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَهُ مَالُ غَيْرِهِ " ، قَالُوا : لا ، قَالَ : " مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي ؟ " فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمٌ النَّحَّامُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْفِقْهَا عَلَى نَفْسِكَ ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى أَقَارِبِكَ ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَهَهُنَا وَهَهُنَا " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام ابومذکور تھا۔ انہوں نے اپنے ایک غلام کو مدبر کر دیا۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا اس کے پاس اس غلام کے علاوہ کوئی اور مال ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا تو سیدنا نعیم نحام رضی اللہ عنہ نے اسے آٹھ سو درہم کے عوض میں خرید لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس رقم کو تم اپنے اوپر خرچ کرو اگر اضافی ہو تو اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرو۔ اگر اضافی ہو تو ادھر اُدھر (یعنی اللہ کی راہ میں) خرچ کرو۔