کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خیارِ عیب کا بیان - بیان کہ اگر غلام میں خرید کے بعد عیب ظاہر ہو تو غلام واپس کیا جائے گا، مگر خریداری کے بعد ہونے والا نفع واپس نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 4928
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ ، قَالَ : " كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ شُرَكَاءَ لِي عَبْدٌ فَاقْتَوَيْنَاهُ بَيْنَنَا ، وَكَانَ بَعْضُ الشُّرَكَاءِ غَائِبًا ، فَقَدِمَ وَأَبَى أَنْ يُجِيزَهُ ، فَخَاصَمْنَا إِلَى هِشَامٍ ، فَقَضَى بِرَدِّ الْغُلامِ وَالْخَرَاجِ ، وَكَانَ الْخَرَاجُ بَلَغَ أَلْفًا ، فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ " ، قَالَ : فَأَتَيْتُ هِشَامًا فَأَخْبَرْتُهُ ، فَرَدَّهُ وَلَمْ يَرُدَّ الْخَرَاجَ .
مخلد بن خفاف کہتے ہیں: میرے اور میرے کچھ رشتہ داروں کے درمیان ایک غلام مشترکہ ملکیت تھا (ہم نے اسے فروخت کر دیا) ایک رشتہ دار وہاں موجود نہیں تھا جب وہ آیا، تو اس نے اس سودے کو برقرار رکھنے سے انکار کر دیا۔ ہم اپنا مقدمہ لے کر ہشام کے پاس گئے تو اس نے یہ فیصلہ دیا کہ وہ غلام واپس آئے گا اور خراج بھی واپس آئے گا۔ خراج کی رقم ایک ہزار (دینار یا درہم) تک پہنچتی تھی میں عروہ بن زبیر کے پاس آیا۔ میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے بتایا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: خراج، ضمان کے حساب سے ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: میں ہشام کے پاس آیا میں نے اسے اس بارے میں بتایا تو اس نے اس غلام کو واپس کر دیا اور خراج واپس نہیں کروایا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البيوع / حدیث: 4928
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حسن بما قبله
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4907»