کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: بیع کا بیان - «فلا شيء له» سے مراد بیچنے والا ہے نہ کہ خریدار۔
حدیث نمبر: 4922
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنِ ابْتَاعَ نَخْلا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ، وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جو شخص پیوندکاری ہو جانے کے بعد کھجور کا باغ خریدتا ہے تو اس کا پھل اس شخص کو ملے گا جس نے اسے فروخت کیا ہے۔ البتہ اگر خریدار نے اس کی شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہو گا) اور جو شخص کوئی غلام خریدتا ہے، جس کے پاس مال موجود ہو تو اس کا مال فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو گا البتہ اگر خریدار نے شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہو گا) “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البيوع / حدیث: 4922
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4901»