کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: بیع کا بیان - بیان کہ خریدار کو اس چیز کی قیمت نقد دینے کی اجازت ہے جو ابھی فریقین کے درمیان تفریق کے بغیر بیچی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 4920
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنْتُ أَبِيعُ الإِبِلَ فِي الْبَقِيعِ ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا بَأْسَ إِذَا أَخَذْتُهُمَا بِسِعْرِ يَوْمِهِمَا فَافْتَرَقْتُمَا وَلَيْسَ بَيْنَكُمَا شَيْءٌ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں بقیع میں اونٹ فروخت کرتا تھا میں دینار کے عوض میں اونٹ فروخت کرتا تھا اور درہم وصول کر لیا کرتا تھا یا درہم کے عوض میں فروخت کرتا تھا اور دینار وصول کر لیا کرتا تھا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اس وقت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میں نے بقیع میں اونٹ فروخت کئے میں نے دینار کے عوض میں فروخت کئے اور دینار کی جگہ درہم وصول کر لئے۔ یا درہم کے عوض میں فروخت کئے اور اس کی جگہ دینار وصول کر لئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے جب تم نے اس دن کی قیمت کے مطابق وصولی کی ہو اور تم دونوں (فریق) ایسی حالت میں جدا ہوئے ہو کہ تمہارے درمیان کوئی (بعد کی ادائیگی کی شرط) نہ ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البيوع / حدیث: 4920
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «المشكاة» (2819 / التحقيق الثاني)، «الإرواء» (1326) «البيوع». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4899»