کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: بیع کا بیان - وہ سبب بیان کیا گیا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے «وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِینَ» نازل فرمایا۔
حدیث نمبر: 4919
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ سَعْدِ ابْنِ بِنْتِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ كَانُوا مِنْ أَخْبَثِ النَّاسِ كَيْلا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ سورة المطففين آية 1 ، فَأَحْسَنُوا الْكَيْلَ بَعْدَ ذَلِكَ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ ماپنے میں سب سے زیادہ کمی کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ” بربادی ہے ان لوگوں کے لئے جو ماپنے میں کمی کرتے ہیں۔ “ اس کے بعد ان لوگوں نے اچھے طریقے سے ماپنا شروع کر دیا۔