کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: بیع کا بیان - ایک دوسری روایت جو ہمارے مذکورہ بیان کی صحت پر دلالت کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 4917
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ ، فَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب دو آدمی سودا کرتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک کو (سودا ختم کرنے کا) اختیار ہوتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں اور اکٹھے رہیں یا پھر ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کو (بعد میں سودا ختم کرنے کا) اختیار دیدے۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کو اختیار دے دیتا ہے اور وہ اس شرط پر سودا کر لیتے ہیں تو سودا طے ہو جائے گا اور اگر وہ سودا طے کر لینے کے بعد جدا ہو جائیں اور ان دونوں میں سے ایک نے بیع کو ترک نہ کیا ہو تو بیع لازم ہو جائے گی۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البيوع / حدیث: 4917
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» -أيضاً- «البيوع»: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4896»