کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: بیع کا بیان - وہ خبر جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں فراق سے مراد جسمانی جدائی ہے نہ کہ محض زبانی کلام۔
حدیث نمبر: 4914
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلالُ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَن ِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ ابْتَاعَ بَيْعًا فَوَجَبَ لَهُ ، فَهُوَ فِيهِ بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يُفَارِقْهُ ، إِنْ شَاءَ أَخَذَ ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ ، فَإِنْ فَارَقَهُ فَلا خِيَارَ لَهُ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص کوئی چیز خریدتا ہے تو یہ اس کے حق میں لازم ہو جاتی ہے اور اسے اس بارے میں اپنے ساتھی کے مقابلے میں اس وقت تک اختیار ہوتا ہے جب تک وہ اس (ساتھی) سے جدا نہیں ہو جاتا۔ اگر وہ چاہے، تو اسے حاصل کر لے اگر چاہے تو اسے ترک کر دے۔ اگر وہ اپنے ساتھی سے جدا ہو جاتا ہے تو پھر اس کے پاس اختیار باقی نہیں رہے گا۔ “
حدیث نمبر: 4915
أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ فِي عَقِبِهِ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔