کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: بیع کا بیان - مسلمانوں کو خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں ایک دوسرے کو دھوکہ دینے سے روکا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 4905
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ ، فَأَدْخَلَ أَصَابِعَهُ فِيهَا ، فَإِذَا فِيهِ بَلَلٌ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ ؟ " قَالَ : أَصَابَتْهُ سَمَاءٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَهَلا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اناج کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے آپ نے اپنی انگلیاں اس میں داخل کیں، تو اس میں گیلا پن محسوس ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اس اناج والے یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! اس پہ بارش پڑ گئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس (گیلے حصے کو) اوپر کیوں نہیں رکھا ‘ تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے، جو شخص ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البيوع / حدیث: 4905
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1319): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4885»