کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صلح و جنگ بندی کا بیان - بیان کہ امام کے لیے اہلِ عہد کو ان کے ملک سے روک کر اسلامی علاقے میں قید رکھنا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 4877
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ أَقْبَلَ بِكِتَابٍ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُلْقِيَ فِي قَلْبِيَ الإِسْلامُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي وَاللَّهِ لا أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ ، وَلا أَحْبِسُ الْبُرُدَ ، وَلَكِنِ ارْجِعْ إِلَيْهِمْ ، فَإِنْ كَانَ فِي قَلْبِكَ الَّذِي فِي قَلْبِكَ الآنَ فَارْجِعْ " ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ ، ثُمَّ إِنِّي أَقْبَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَسْلَمْتُ " ، قَالَ بُكَيْرٌ : وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا .
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں وہ قریش کا مکتوب لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت گھر کر گئی۔ میں نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم میں کبھی ان کی طرف واپس نہیں جاؤں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ میں معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کروں گا اور میں قاصد کو اپنے پاس نہیں رکھوں گا۔ ان کے پاس واپس جاؤ۔ اگر تمہارے دل میں وہی چیز رہی جو تمہارے ذہن میں اب ہے تو تم واپس آ جانا۔ راوی کہتے ہیں: میں ان لوگوں کے پاس واپس آ گیا۔ پھر میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کر لیا۔ ابوبکیر نامی راوی بیان کرتے ہیں سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ قبطی تھے۔