کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صلح و جنگ بندی کا بیان - ایک خبر جس نے سطحی علم رکھنے والوں کو یہ وہم دیا کہ حدیبیہ کے دن مسلمانوں کی تعداد مذکورہ تعداد سے کم تھی۔
حدیث نمبر: 4875
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِئَةٍ ، فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ السَّمُرَةُ ، وَقَالَ : بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لا نَفِرَّ ، وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں صلح حدیبیہ کے موقع پر ہماری تعداد ایک ہزار چار سو تھی۔ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑا ہوا تھا۔ وہ سمرہ کا درخت تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت اس بات پر کی تھی۔ کہ ہم فرار اختیار نہیں کریں گے۔ ہم نے موت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت نہیں کی تھی۔