کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ہجرت کا بیان - جو بھی شخص مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرے اور ان کے پاس آئے اسے دنیاوی چیزوں میں سے کچھ پہنچے تو اس کی بات بیان کرنا
حدیث نمبر: 4868
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَسَّانَ السَّامِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اعمال کی (جزا کا) دار و مدار نیتوں پر ہے آدمی کو وہی کچھ ملے گا جو اس نے نیت کی ہو گی۔ جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کی ہو گی اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف شمار ہو گی اور جس شخص کی ہجرت کسی دنیاوی فائدے کے حصول کے لیے ہو گی یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف شمار کی جائے گی جو نیت کر کے اس نے ہجرت کی تھی۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب السير / حدیث: 4868
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - مضى (389). تنبيه!! رقم (389) = (388) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4848»