کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: الغلول کا بیان - بیان کہ کہاوت «شراکا من نار» سے مراد یہ ہے کہ اگر تم انہیں واپس نہ لوٹو گے تو تمہیں بھی اسی طرح آگ میں عذاب دیا جائے گا
حدیث نمبر: 4852
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَهْدَى رِفَاعَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلامًا فَخَرَجَ بِهِ مَعَهُ إِلَى خَيْبَرَ ، فَأَتَى الْغُلامَ سَهْمٌ غَرْبٌ فَقَتَلَهُ ، فَقُلْنَا : هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، الشَّمْلَةُ لَتَحْتَرِقُ عَلَيْهِ الآنَ فِي النَّارِ غَلَّهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ خَيْبَرَ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَبْتُ يَوْمَئِذٍ شِرَاكَيْنِ ، قَالَ : " يُعَدَّدُ لَكَ مِثْلُهُمَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک غلام تحفے کے طور پر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے ساتھ لے کر خیبر تشریف لے گئے۔ ایک اجنبی تیر اس غلام کو آ کر لگا اور وہ غلام مر گیا تو ہم نے کہا: اسے جنت کی مبارک ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ چادر اس پر جہنم میں جل رہی ہے جو اس نے مسلمانوں کے مال میں غزوہ خیبر کے موقع پر خیانت کی تھی، تو ایک انصاری نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس دن مجھے دو تسمے ملے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے لیے ان دونوں کی مانند جہنم کی آگ میں (تسمے تیار کیے جائیں گے)